کیا بھارت پاکستان کا پانی بند کرسکتا ہے؟

منور راجپوت

مقبوضہ کشمیر میں فوجی بیس پر حملے کے بعد بھارت پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا ہے، یہ بیماری اس نے خود اپنے آپ کو لگائی ہے، بھارتی قیادت نے کسی تحقیق کے بغیر پاکستان کو ملزم ٹھہرایا اور پھر مزا چکھانے کی دھمکیاں شروع کردیں، ایک تو یوپی کے انتخابات سر پر ہیں، وہاں ووٹ لینے ہیں اور باقی بھارت میں بھی بی جے پی پاکستان کو برا بھلا کہہ کر ووٹ لیتی ہے، اسی لیے مودی پارٹی نے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کو اپنے پارٹی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے بڑھ چڑھ کر پاکستان پر جوابی حملے کی دھمکیاں دیں، اپنے عوام کو ’’خوشخبریاں‘‘ سنائیں کہ بس اب پاکستان کی کمر ٹوٹنے والی ہے، جگہ جگہ جلسے جلوس اور ریلیاں ہوئیں، جن میں بھارتی رہنماؤں نے اسی طرح کی باتیں کیں، اس سے عوام کے پاکستان مخالف جذبات اپنی حدود کو پار گئے، اب یہی عوامی جذبات مودی اور اس کی پارٹی کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔

بھارتی قیادت کو اچھی طرح علم تھا، وہ کبھی بھی پاکستان پر محدود حملہ نہیں کرسکتے، محدود حملہ کیا ہوتا ہے، اس پر کل بات کریں گے، انہوں نے محض سیاسی فائدے کے لیے حملے کا شوشا چھوڑا تھا، اب مسئلہ یہ ہے بھارتی عوام صبح شام اپنے رہنماؤں سے پوچھتے ہیں، ہاں بھائی! جنگی جہاز پاکستان کب جارہے ہیں، سنوجی! وہ پاکستان کے لیے میزائل تو تیار کرلیا ہے ناں!! کیسے جہاز اور کہاں کے میزائل، بی جے پی کے رہنماؤں کے لیے اپنی شکل گم کرنا مسئلہ بنا ہوا ہے، فوجی حملہ تو ان سے ہوا نہیں اور نہ ہوسکتا تھا، اب شرمندگی سے بچنے اور ووٹروں کو قابو میں رکھنے کے لیے مودی سرکار نے پینترا بدلا ہے، اس بار عوام کو خوش خبری سنا رہے ہیں کہ ہم پاکستان کا پانی بند کرکے انہیں پیاسا مار دیں گے، وہاں روز اس پر اجلاس ہورہے ہیں، وزیر خارجہ،
وزیرداخلہ اور نہ جانے کون کون سی بلائیں پانی بند کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں، کیا ایسا ممکن ہے؟

پاکستان میں بہنے والے دریاؤں میں پانی بھارت اور مقبوضہ کشمیر سے ہوتا ہوا آتا ہے، اسی وجہ سے اس پانی کے استعمال پر دونوں ملکوں کے درمیان شروع دن سے تنازع رہا ہے، ریڈ کلف ایوارڈ، جس کے ذریعے اثاثے دونوں ملکوں میں تقسیم کیے گئے تھے، اس میں پاکستان کے ساتھ بہت سی زیادتیاں کی گئی تھیں، انگریزوں نے پانی کی تقسیم کے معاملے میں بھی بھارت کا ساتھ دیا، مشرقی دریاؤں کو کنٹرول کرنے والے فیروزپور اور مادھوپور ہیڈورکس جو پاکستان کو ملنے چاہیے تھے، وہ بھارت کو دے دیے گئے، اس طرح دریاؤں پر بھارت کی بالادستی ہوگئی، بھارت نے اپنی روایتی دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یکم اپریل 1948ء کو مادھو پور ہیڈورکس سے آنے والا پانی بند کردیا، عالمی مداخلت پر 34 دن بعد یہ پانی بحال ہوا، پانی کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان کھٹ پٹ چلتی رہتی تھی، آخر طویل سفارتی کوششوں اور امریکی مداخلت کے بعد ورلڈ بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی پر ایک معاہدہ ہوگیا جسے سندھ طاس معاہدہ کہتے ہیں، اس معاہدے پر 19 ستمبر 1960ء کو کراچی میں صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے دستخط کیے، معاہدے کے تحت پاکستان نے اپنے حصے کے تین مشرقی دریاؤں ستلج، راوی اور بیاس کو صرف 174 ملین ڈالر میں بھارت کو فروخت کردیا جبکہ جہلم اور چناب کے پانی سے بھارت کو بجلی بنانے کی اجازت دے دی گئی، یہ معاہدہ ہر لحاظ سے پاکستان کے لیے نقصان دہ تھا لیکن اس وقت کی قیادت نے عوام کو یہ باور کرایا کہ چونکہ سارا پانی بھارت سے ہی آتا ہے اور ہم لڑجھگڑکر اس سے اپنا حق وصول نہیں کرسکتے، اس لیے یہ معاہدہ قبول کرنا مجبوری ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے باوجود بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا، یہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چناب، جہلم اور سندھ پر بڑی تیزی سے ایسے منصوبے تعمیر کررہا ہے، جو بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پانی بھی ذخیرہ کریں گے، ان میں سے کئی منصوبے تو مکمل ہوچکے ہیں، بھارت نے دریائے چناب پر ملال ہائیڈل پروجیکٹ بنایا ہے، اس سے 690 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، یہاں بھارت نے ایسا انتظام کررکھا ہے، اگر وہ چاہے تو پاکستان میں مرالہ کے مقام پر 25 دن کے لیے دریائے چناب کو خشک کرسکتا ہے۔ اس طرح بگلیہار پاور پروجیکٹ، ساول کوٹ پروجیکٹ، وولر بیراج، اسٹوریج پروجیکٹ، کشن گنگا پروجیکٹ ہے۔ ان منصوبوں سے بھارت نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں اگر وہ پانی روک دے یا بہاؤ میں کمی کردے تو ان دریاؤں پر لگے پانی کے بڑے بجلی کے منصوبوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے، زرعی نقصان اس کے علاوہ ہے۔

بھارت چاہے تو وہ یکطرفہ طور پر پانی کے معاہدے کو ختم کرسکتا ہے، معاہدے کی ایک شق اسے یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ البتہ پانی کی تقسیم کے عالمی قوانین بھارت کی راہ میں رکاوٹ ہیں، ان قوانین کے مطابق ایسے دریا جو دو ملکوں کے درمیان سرحد بنتے ہوں یا دونوں ممالک میں بہتے ہوں، ان کا پانی کوئی ملک اس طرح استعمال نہیں کرسکتا جس سے دوسرا ملک متاثر ہو۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ بھارت نے پہلے کون سے عالمی قوانین کو تسلیم کیا ہے جو وہ پانی کے قوانین کو مانے گا۔ ایسا تو ممکن نہیں ہے کہ بھارت آج اعلان کرے اور کل سے پاکستان کے دریاؤں میں پانی آنا بند ہوجائے لیکن وہ طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت پہلے سے تعمیرکردہ پروجیکٹوں کو فعال اور ایسے نئے پروجیکٹ تعمیر کرسکتا ہے، جس سے پاکستان کا پانی بتدریج کم ہوتا جائے۔
اگر بھارت سندھ طاس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کردے، معاہدہ ختم کرنے کے لیے اعلان کرنا ضروری ہوتا ہے، اور وہ تمام عالمی قوانین کو سبوتاژ کرتے ہوئے دریاؤں کے پانی پر بند باندھنے کی کوششیں شروع کردے تو پھر پاکستان کیا کرسکتا ہے؟ لازمی بات ہے ایسے حالات میں فوجی کارروائی کے ذریعے تو مسئلہ حل نہیں کیاجاتا، پاکستان کو سفارتی میدان میں ہی اپنی کارکردگی دکھانا پڑے گی تاکہ عالمی برادری بھارت کو آبی جارحیت سے روک سکے۔ ماضی کے تجربات تو کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں، کشن گنگا پر جو صاحب بہت عرصہ تک بھارت سے مذاکرات کرتے رہے اور ناکام رہے، بعد میں پتا چلا وہ تو بھارت کے ہی پے رول پر تھے۔ بھارت آبی ہو یا فوجی ہر طرح کی جارحیت کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، پاکستان کی سیاسی قیادت کی دانش کا بھی امتحان کا وقت ہے، وہ کس طرح ملکی مفادات کا تحفظ کرتی ہے؟