دبنگ جنرل

ندیم تابانی
میڈم سشما سوراج، ہندوستانی وزیر خارجہ، وہی جنہوں نے ہمارے سرتاج عزیز صاحب کے ہاتھوں میں ہاتھ دیا تھا، اقوام متحدہ میں ہندوستانی وزیر اعظم کی نمائندگی کرتے ہوئے آپے سے باہر ہونے لگ گئیں۔ باتیں وہی پرانی، گھسی پٹی، جو ان کے بڑے کرتے آئے ہیں، میڈم کو یہ بھی پتا نہیں کہ کشمیر پر کوئی تنازع ہے یا نہیں، چلی ہیں وزیر خارجہ بننے، چلیں ہندوستانی وزیر داخلہ سے ہی پوچھ لیں، پاکستان تشریف لا چکے ہیں، چودھری نثار علی خان نے ان کو بڑھکا دیا تھا، بڑھک کر واپس چل دیے تھے، وہ بتا دیں گے، کشمیر کی داخلی صورت حال۔ ویسے آنے کو تو میڈم خود بھی تشریف لا چکی ہیں، اس وقت تو بڑی باتیں کررہی تھیں، باتیں تو اب بھی بڑی ہی کرتی ہیں، لیکن اس وقت کچھ اور طرح کی باتیں تھیں۔ میڈم! آپے اور جامے میں رہنا ہی اچھی عادت ہے، پاکستانیوں کے موڈ کا کچھ پتا نہیں ہوتا، یقین نہ ہو تو اپنے کچھ بڑوں سے پوچھ لیجیے۔ جنرل ضیاء الحق ہنستے مسکراتے کام دکھا جاتے تھے، جنہوں نے جنرل ضیاء کی باتوں پر راجیو گاندھی کے پسینے چھوٹتے دیکھے تھے، ان سے پوچھ لیں، انہی کے شاگرد ہیں میاں نواز شریف بھی۔ ہوشیار رہیں لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں اور وہ جو ہیں ناہمارے پیارے جنرل راحیل شریف وہ تو بڑے خطر ناک اور ’’دبنگ‘‘ قسم کے جنرل ہیں، دبانے پر آگئے تو اٹھنے جیسا نہیں چھوڑیں گے۔

چین نے ہندوستان کو ایک بار پھر خبر دار کیا ہے کہ پانی پانی کا کھیل کھیلنے کی کوشش کی تو یاد رکھیں، ہماراکاٹا ہوا پانی بھی نہیں مانگ سکتا۔ سنا ہے اس خبرداری کے بعد مودی سرکار کچھ پانی پانی ہوئی ہے۔ مسٹر مودی! اپنا موڈ درست رکھیو، جب تمھاری تینوں افواج کے چیفوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں تو بہتر نہیں کہ تم بڑھکیں مارنا چھوڑ کر اپنے ملک کے غریبوں کا حال درست کرو، بنیادی سہولتوں کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں، مسلمانوں کی آہ پر تو خیر تمھیں یقین نہیں لیکن اگر کسی سادھو کی بد دعا لگ گئی نا تو ساری شوخیاں اور شیخیاں بھول جاؤ گے، چوکڑیاں بھرنے کا نام بھی نہ لوگے۔

***

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ساری قوم کو خبردار کیا کہ چوکنے رہیں، ہندوستان چھپ کر وار کر سکتا ہے۔ چودھری جی کی بات صحیح ہے، وار تو وہ چھپ کر ہی کرے گا، کیوں کہ اس کی عدات اور صفت ہی یہ ہے، پاکستان کے اندر ایسی حرکتیں جس سے یہاں کے سیاسی اور مذہبی لوگ آپس میں تو تو میں میں ہو جائیں، ایسا ہی ماحول بھارت سمیت سب پاکستان دشمنوں کو سجتا ہے، سب کو پتا ہے، وہ کئی بار ٹرائی کر چکے ہیں کہ جب بھی لڑنے بھڑنے کی بات آتی ہے، یہ سب مل جاتے ہیں اب بھی ایسا ہی کریں گے اور دشمن کو بھاگنے بھی نہیں دیں گے۔ اس لیے بم دھماکے، دیگر تخریبی کارروائیاں ہونے کا خطرہ ہے۔ آنکھیں، کان اور دماغ کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔

***

تیس ستمبر میں اب دو دن رہ گئے ہیں۔ جوں جوں تیس ستمبر قریب آ رہا ہے، خان جی پر جوش اور جنون طاری ہوتا نظر آرہا ہے وہ ایسے بیان دے رہے ہیں، جس سے اشتعال کی کیفیت پیدا ہو جائے۔ تاریخی اجتماع اور جلسے کا نام دینا، کسی نے مارا تو اس کی ایسی تیسی کرنے کی دھمکیاں دینا، یہ سب باتیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گھروں سے نکالنے کے حربے ہیں، کیوں کہ لوگ اب اس موڈ میں لگ نہیں رہے۔ مشاہد حسین سید نے اچھا مشورہ دیا ہے خان صاحب کو، گڈی بھی چڑھ جائے، عوامی لیڈر بن جائیں گے، ان کا کہنا ہے کشمیر پر مارچ کریں۔ حکومت اور حزب اختلاف سب کو دعوت دیں۔ نسخہ تو زبردست بتایا ہے، مشاہد سید نے لیکن خان جی کے خیال میں پاکستان کی ترقی اور تبدیلی، نئے پاکستان کے لیے میاں نواز شریف کا جانا ضروری ہے، جب تک وہ ہیں خان جی کی دال نہیں گلے گی، پاکستان سے انہیں کچھ نہیں لینا دینا، وہ تو اپنی دال گلانا چاہتے ہیں۔

***

سینیٹ میں حکومت کی حالت پتلی ہے، تبھی تو چیئرمین سینیٹ پی پی کے رضا ربانی بنے، خیر تب تو میاں جی نے رضا ربانی کا نام دے کر سیاسی چال چل لی تھی، لیکن اب حکومت کو دھچکا لگا ہے جب پاناما کی انکوائری کے لیے تیار کیے گئے بل پر اس کو شکست ہوئی ے، اب محترمہ قائمہ کمیٹی کے پاس بل گیا، کہا جا رہا ہے حکومت نے کوشش کی بل کو متنازعہ بنادیا جائے لیکن اپوزیشن نے فل تیاری کی ہوئی تھی، خیر یہ تو ہو گیا، لیکن اس بل سے اپوزیشن کیا فائدہ اٹھا سکتی ہے اور حکومت کے لیے سوائے وقتی سبکی کے کیا نقصان ہو سکتا ہے، بلکہ شاید پی پی نے اس بل کو پاس کروانے میں اس لیے محنت کی تا کہ ان کے کھاتے میں کچھ نہ کچھ تو ہو، اور کیا پتا حکومت اس سبکی میں ہی خوش ہو، یہ تو سیاسی گیم ہیں، ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔