سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری

عبد القدوس محمدی

سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر اسلام آباد میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد، مثالی، منظم اور جامع تقریب ہوئی۔ یہ ایک تقریب ہی نہ تھی بلکہ اسے ایک قوس قزح بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے کی نمایاں شخصیات اس تقریب میں موجود تھیں۔ عموماً مختلف ممالک کے قومی دنوں کی تقریبات محض رسمی ہوتی ہیں جنہیں منایا نہیں جاتا بلکہ بھگتایا جاتا ہے لیکن سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب میں جو والہانہ پن، جو خلوص اور خوشی کے مظاہر دیکھنے کو ملے وہ کہیں اور کہاں اور ایسا کیوں نہ ہو کہ سعودی عرب کا معاملہ دیگر ممالک سے یکسر مختلف ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستانی عوام کی وابستگی او وارفتگی کے جو ڈھیر سارے حوالے ہیں، وہ ہر چہرے پر دمکتے دکھائی دے رہے تھے۔ حکومت کی طرف سے اس تقریب میں محترم خواجہ آصف اور پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے بزرگ سیاستدان راجا ظفر الحق نمائندگی کر رہے تھے لیکن ہماری دانست میں یہ نمائندگی ادھوری تھی۔ پاک سعودی دوستی کا تقاضا تھا کہ اس تقریب میں صدرِ محترم خود قدم رنجہ فرماتے تاکہ عوام کو ان کی زیارت کی سعادت بھی نصیب ہوتی اور ایک برادر ملک کو دوستی اور محبت کا بھرپور پیغام بھی ملتااور سعودی عرب کے احسانات کا تقاضا تھا کہ میاں برادران میں سے کوئی ایک شریک ہوتا بڑے میاں صاحب نہ سہی تو چھوٹے میاں صاحب کو تو ضرور ہی اس تقریب میں شرکت کی کوئی سبیل نکالنا چاہیے تھی۔

سعودی قومی دن کی تقریب میں کسی ہائی پروفائل شخصیت کی عدم موجودگی کو اس لیے بھی کوئی خاص توجہ نہ دی گئی کہ یہ کوئی محض رسمی یا سرکاری تقریب نہ تھی، بلکہ یہ پاک سعودی دوستی کا حقیقی اظہار تھا جو حکومتوں اور عہدوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ براہ راست عوام اور زندگی کے ہر شعبے پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ بات ہمیشہ محسوس کی گئی خاص طور پر جب ایرانی اور استعماری سازشوں اور شرانگیزی کا طوفان بلاخیز سعودی سرحدوں سے ٹکرانے لگا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان نے آگے بڑھ کر اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کا فیصلہ کیا اور یمن میں جنگ شروع ہوئی، اس وقت پاکستان کی پارلیمنٹ اور حکومتی عمائد نے جس بدترین بدانتظامی کا مظاہرہ کیا اور ایک ایسی قرار داد منظور کی گئی جو پاکستانی قوم کے دل کی آواز نہ تھی اور نہ ہی پاک سعودی دیرینہ، مثالی اور تاریخی تعلقات سے ہم آہنگ تھی، اس وقت ملک کے طول وعرض سے یہ آواز زیادہ شدو مد سے اٹھائی گئی بلکہ ہم نے جمعیت اہلسنت اور تحریک دفاع حرمین کے پلیٹ فارم سے کئی پروگرواموں اور تقریبات میں اس بات کو زور دے کر کہا کہ سعودی عرب کو پاکستان کے عوام اور تمام طبقات کے ساتھ رابطوں کو بڑھاناچاہیے اور صرف حکومت اور ایک سیاسی جماعت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ اس قرارداد کی منظوری کے وقت چند ماہ کے لیے تو ایک سناٹا رہا اور سعودی سفارت خانے کا اس لحاظ سے کردار بالکل ہی سوالیہ نشان بنا رہا بلکہ دلچسپ امر یہ تھا کہ تاریخ کے اس اہم ترین موڑ پر پاکستان میں کوئی سعودی سفیر ہی موجود نہ تھے، بعد ازاں عبداللہ مرزوق الزھرانی صاحب کی بطور سفیر تقرری ہوئی۔ جن حالات میں عبداللہ مرزوق الزھرانی کا مملکت عربیہ سعودیہ کی سفارت کے لیے انتخاب کیا گیا، ان میں لگتا نہیں تھا کہ پاک سعودی تعلقات میں جو دراڑیں بظاہر دکھائی دینے لگی ہیں وہ کبھی ختم ہو پائیں گی، جتنی برف جمی ہوئی ہے وہ کبھی پگھل سکے گی، تاریخ کے اہم ترین موڑ پر پاک سعودی دوستی میں جو خلیج پیدا ہو گئی ہے اس خلیج کو اتنی آسانی سے پاٹا جا سکتا ہے لیکن جناب عبداللہ مرزوق الزھرانی کو ا س بات پر خراجِ تحسین پیش نہ کرنا یقیناًناانصافی ہو گی کہ انہوں نے اپنی شبانہ روز محنت، حسنِ انتظام، کامیاب سفارتکاری کے ذریعے منظر نامہ تبدیل کرنے میں مثالی کردار ادا کیا۔

اس عرصے میں پاک سعودی دوستی کو محض سرکاری اور حکومتی سطح پر ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ پاک سعودی دوستی کی تین حقیقی بنیادوں پر توجہ دی گئی (۱)عوام اور تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سے رابطوں میں اضافہ (۲)مذہبی جماعتوں، اداروں اور شخصیات کی پذیرائی (۳)عسکری روابط میں استحکام۔۔۔ پہلے معاملے کا کریڈٹ سعودی سفیر عبداللہ الزھرانی کو جاتا ہے، دوسرے معاملے میں مکتب الدعوۃ کے مدیر ابو سعد الدوسری اور رابطہ عالم اسلامی کے کنٹری ڈائریکٹر عبدہ عتین نے بہت فعال کردار ادا کیا جبکہ تیسرے معاملے میں نواف سعید نامی ایک ایسی عسکری شخصیت اور سعودی عرب کے ایکٹنگ ملٹری اتاشی کا کردار ہے ۔

سعودی قومی دن کی تقریب محض ایک تقریب ہی نہ تھی بلکہ ان تینوں شعبوں کی خدمات اور محنت کا جیتا جاگتا ثبوت تھا، مذہبی طور پر بعض دوست یہ تاثر دیتے ہیں کہ سعودی عرب کی طرف سے صرف ایک گروہ کی سرپرستی اور پشت پناہی کی جاتی ہے( اگرچہ اس حوالے سے بھی کہنے کے لیے بہت کچھ ہے) لیکن کم از کم اس سالانہ اور یادگار تقریب میں تمام مکاتبِ فکر کی بھرپور نمائندگی موجود تھی۔ مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا فضل الرحمن خلیل اور طاہر اشرفی، مولانا ساجد میر اور مولانا انس نورانی سمیت سب مذہبی رنگ اور تمام مکاتب فکر موجود تھے، بلکہ علامہ کراروی کی شکل میں شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی بھی موجود تھی۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں، سفارتی دنیا، تینوں افواج اور بالخصوص میڈیا کی بھرپور نمائندگی تھی۔

تقریب کے انتظامات مثالی تھے۔ سعودی سفیر عبداللہ مرزوق الزھرانی، خوش اخلاق سعودی قونصلر جناب مروان رضوان( جو اپنی خوش اخلاقی اور خو ش لباسی کے باعث تقریب میں سب کی توجہ کا مرکز بنے رہے) اور ملٹری اتاشی نواف سعیدکو بجا طور پر رونق محفل قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان تینوں شخصیات کی بدن بولی، ان کے پرخلوص طرزِ عمل اور ان کے حسن اخلاق کی ہر کوئی تعریف کر رہا تھا۔ تاہم اس کے باوجود ضرورت اس اَمر کی ہے کہ سعودی اداروں میں موجود ایسے افراد پر کڑی نگاہ رکھی جائے جو ذاتی پسند ناپسند، مسلکی عصبیت اور مفاد واغراض پرستی کی بنیاد پر سعودی عرب کی مثالی پالیسیوں اور سعودی عرب کی کامیاب سفارتکاری کے لیے بسا اوقات کلنک کا ٹیکا بن کر رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ سالانہ تقریب محض ایک دن کا میلہ ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ سال بھر اس کے رنگ ہر طرف بکھرے دکھائی دینے چاہئیں، خاص طور پر ایران کی طرف سے جس طرح کی بھرپور لابنگ کی جاتی ہے اور صحافت سے لے کر تعلیم تک اور بیوروکریسی سے لے کر سیاسی میدانوں میں ایران کی طرف سے جس طویل المیعاد حکمتِ عملی پر کام ہو رہا ہے، اس پر بھی بطور خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایران جتنا نہ سہی لیکن کسی نا کسی قدر ٹھوس بنیادوں پر کام ضرور ہونا چاہیے۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی بے محل نہ ہو گا کہ پاکستان میں بہت گہری جڑیں اور بہت وسیع نیٹ ورک رکھنے والے بعض طبقات کو سعودی عرب کی حکومت اور پالیسیوں سے نہیں پاکستان میں خدمات سرانجام دینے والے بعض سعودی ذمہ داروں سے کچھ بجا گلے شکوے بھی ہیں۔ ان کے ازالے کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی۔ بہرحال مجموعی طور پر سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب ایک بھرپور اور کامیاب ترین سفارتی شو اور تاریخی اکٹھ تھا جس کے یقیناًدوررس اثرات مرتب ہوں گے۔