سیلولر کمپنیوں کی کروڑوں روپے کی ڈیوٹی و ٹیکس چوری پکڑی گئی

کراچی: پاکستان کسٹمز کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے سیلولر کمپنیوں سے متعدد درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں کسٹم ڈیوٹی و ٹیکسوں کی مد میں مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے سے زائدمالیت کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کردی ہے۔

ایک نجی نیوز چینل کے مطابق ڈائریکٹوریٹ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے ایک موبائل کمپنی کی جانب سے کسٹم کلیئرنس کے حامل سیلولر انفرا انسٹرکچر اکیویپمنٹ فارٹیلی کام سیکٹر نیٹ ورک اکیویپمنٹ، کمپیو ٹرسرورمشین ودیگر اسیسریز جبکہ ایک اورموبائل کمپنی کی جانب سے کسٹمز سے کلیئرنس حاصل کرنے والے ڈی این ایس سرور، ٹیلی کمیونی کیشن اکیویپمنٹ، کمپیوٹر سرورکے درآمدی کنسائمنٹس کے ڈیٹاکا جب تفصیلی آڈٹ کیا توانکشاف ہواکہ مذکورہ دونوں موبائل کمپنیوں نے اپنے کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹ کی باہمی ملی بھگت سے مذکورہ آئٹمزکے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے پی سی ٹی نمبر 8471.5000 کا سہارالیتے ہوئے 2 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی ادائیگی کی حالانکہ سیلولر انفراانسٹرکچر اکیویپمنٹ فارٹیلی کام سیکٹرنیٹ ورک اکیویپمنٹ اور کمپوٹر سرورمشین کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے لیے پاکستان کسٹم ٹیرف ( پی سی ٹی) نمبر 8517.6990 کے تحت15فیصدکسٹمزڈیوٹی کی ادائیگی پر کی جاتی ہے لیکن اس کے برعکس مذکورہ کمپنیوں نے پی سی ٹی کی مس ڈیکلریشن کرتے ہوئے قومی خزانے کو مجموعی طورپر 5کروڑروپے سے زائد مالیت کا نقصان پہنچایا۔

ذرائع نے بتایاکہ مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی جاری کردہ آڈٹ آبزرویشن کا معقول جواب نہ دیے جانے پرڈائریکٹوریٹ نے بے قاعدگی میں ملوث مذکورہ درآمدکنندگان کے خلاف مزید کارروائی کے لیے کنٹراونشن رپورٹ متعلقہ کسٹمز ایڈجیوڈکیشن کلکٹریٹ کو ارسال کردی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ نے ایک اور موبائل کمپنی کے درآمدی کنسائمنٹس آڈٹ کے دوران اس بات کی نشاندہی کی کہ کمپنی جانب سے ملٹی پرپز بیڑی اورپاوربیک اپ اکیویپمنٹ ظاہرکرکے کسٹمزسے کلیئر کرایا گیاہے لیکن درحقیقت کمپنی نے ٹیلی فون ایکس چینج میں استعمال ہونے والی بیڑیاں درآمدکی تھیں جس پر 20فیصد کسٹمزڈیوٹی عائد ہے لیکن اس کمپنی کی جانب سے مذکورہ آٹیم کے متعددکنسائمنٹس کی کلیئرنس کیلیے صرف10 فیصدکسٹمزڈیوٹی کی ادائیگی کی گئی جسکے نتیجے قومی خزانے کوریونیو کی مد میں 88ہزارروپے سے زائدکا نقصان پہنچایا گیا۔