وزیرآباد پولیس کا غریب‘ بے گناہ نوجوان پر وحشیانہ تشدد‘ گردے ناکارہ بنا د ئیے

وزیرآباد: پولیس اہلکاروں نیمزدوری کر کے غریب والدین کا پیٹ پالنے والے نوجوان پر وحشیانہ تشدد‘کر کے گردے ناکارہ بنا دیے ‘ نوجوان سروسز ہسپتال لاہور میں زیر علاج، لواحقین کا وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے نوٹس لے کر تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق وزیرآباد محلہ قدرت آباد کا رہائشی مبشر ملک جو کہ سیالکوٹ روڈ ، یوسف پلازہ وزیرآباد میں ایک موبائل ریپئرنگ شاپ پر کام کرتا تھا اس کے پاس دو پولیس اہلکار جو سرکاری وردی میں ملبوس تھے افتخار جواندہ پروپرائیٹر الحرم موبائل کے ہمراہ آئے اور کہا کہ فلاں ماڈ ل کا موبائل تمہارے پاس ہے ‘ تم نے وہ کہاں سے لیا اور وہ ہمارے حوالے کردو تو تمہیں کچھ نہیں کہا جائے۔ پولیس اہلکار حیلے بہانے سے دکان پر کام کرنے والے دو نوجوانوں کو تھانے لے گئے اور آدھے گھنٹے تک پوچھ گچھ کرتے رہے۔ اس اثناء میں دوسرے نوجوان کے لواحقین تھانے آئے اور اُسے چھڑوا کے گئے۔ پولیس اہلکار مبشر ملک کو چھت پر لے گئے اور الٹا لیٹا کر دو اُس کے اوپر بیٹھ گئے اور اُسے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ نوجوان درد کی شدت سے تڑپتا اور اپنی بے گناہی کی قسمیں کھاتا رہا لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔ اسی دوران تشدد کرنے میں مصروف اہلکاروں کے ساتھی نیچے سے اوپر آئے اور اس صورتحال کو دیکھ کر انہیں نے انہیں منع کیا کہ یہ کیا کررہے ہو اور اسے چھڑوا کر واپس نیچے لے گئے۔

پھر پولیس اہلکاروں نے نوجوان مبشر ملک سے اپنے والد کو کال کروائی اور صورتحال سے آگاہ کیا جس پر اُس کے والد تھانے آئے اور مختلف سفارش کروا کے بچے کو چھڑا کر گھر لے گئے۔ گھر پہنچ مبشر کی حالت غیر ہو گئی۔ میڈیکل کروانے پر معلوم ہوا بے پناہ تشدد کی وجہ سے گردے شدید متاثر ہوئے ہیں۔انہیں سروسز ہسپتال لاہور لے جانے کا مشورہ دیا۔غریب والدین نے وزیراعلیٰ پنجاب سمیت اعلیٰ پولیس اور انتظامی حکام سے اپیل کی ہے کہ اس وحشیانہ عمل میں ملوث سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے وقوعہ سے غرباء اور بے گناہوں کو بچایا اور پولیس گردی کو ختم کیا جائے۔