ڈاکٹر ذاکرنائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ سینٹر کو لائسنس دینے والے 4 افسران معطل

ممبئی: بھارتی وزارت داخلہ نے ذاکر نائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ سینٹر (آئی آر سی) کو فارن کنٹریبیوشن ایکٹ (ایف سی آر اے) لائسنس جاری کرنے پر 4 افسران کو معطل کردیا۔

معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کافی عرصے سے بھارتی انتہا پسندوں کے عتاب کا شکار ہیں اور اب ان کے بین الاقوامی ادارے ’’اسلامک ریسرچ سینٹر‘‘ کو بھی مسلمان دشمنی کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اسلامک ریسرچ سینٹر کو فارن کنٹریبیوشن ایکٹ لائسنس جاری کرنے پر اپنے 4 افسران کو معطل کردیا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت میں کوئی بھی غیر سرکاری تنظیم بیرونی ممالک سے فنڈ یا عطیات ایف سی آر اے سے حاصل شدہ لائسنس کی بنیاد پر ہی حاصل کرسکتی ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ذاکر نائیک کے خلاف ابھی تک کوئی بھی مقدمہ درج نہیں ہے تاہم ان کے اور ان کے ادارے کے خلاف تفتیش جاری ہے اس لئے انہیں لائسنس نہیں دیا جانا چاہیئے تھا، غفلت کے مرتکب 4 افسران کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔