امریکا میں تدفین کے اخراجات بڑھنے سے لاشیں عطیہ کرنے میں اضافہ

واشنگٹن: امریکا کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں تدریس و تحقیق کے لیے انسانی لاشیں موصول ہونے میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ مردوں کی تدفین پر اٹھنے والے اخراجات ہیں جس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
اس کا ایک تاثر یہ بھی ہے کہ لوگوں میں سائنس کے لیے انسانی لاشیں عطیہ کرنے سے متعلق عوامی شعور میں اضافہ ہوا ہے۔ ان لاشوں کو طبی تدریس اور تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور جامعات کے طالبعلم اور اساتذہ ان کا آپریشن کرکے مطالعہ کرتے ہیں۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں لاش عطیہ کرنے کے شعبے سے تعلق رکھنے والے حکام کے مطابق اب سے چند سال قبل لوگ مردوں کو عطیہ کرنے کے بارے میں سوچتے بھی نہ تھے اور اب ہزاروں افراد موت سے قبل عطیہ کرنے کی رجسٹریشن کراچکے ہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹی آف منی سوٹا کو جہاں 2002 میں 170 لاشیں موصول ہوئی تھیں اس سال انہیں 550 لاشیں ملی ہیں۔
ایک اور یونیورسٹی آف بفلیو کو 600 لاشیں ملی ہیں جو 10 سال میں دگنی تعداد کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیوک یونیورسٹی سمیت امریکا کی کئی جامعات کو لاشیں ملنے کے رحجان میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایک تنظیم کے مطابق پورے امریکا میں اس سال 6 ہزار لاشیں عطیہ کی گئی ہیں جو 2010 کے مقابلے میں دگنا ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق امریکا میں مذہبی رہنماؤں کی جانب سے لاشیں عطیہ کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے جب کہ دوسری جانب ایک دہائی میں کفنانے اور دفنانے کے اخراجات میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس پورے عمل میں 7 سے 8 ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں جو پاکستانی 8 لاکھ روپے تک کی رقم ہے۔
امریکی ماہرین کے مطابق لاشیں طبی سائنس کے لیے ایک عظیم تحفہ ہیں کیونکہ ان پر تحقیق سے مزید انسانوں کو بچانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔