بھارت کے یوم آزادی پر مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ

سری نگر: بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں جب کہ قابض فوج کی فائرنگ سے 2 کشمیری شہید ہوگئے جس کے بعد 38 روز کے دوران شہادتوں کی تعداد 83 ہوگئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر کشمیری عوام کی جانب سے مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ منایا جارہا ہے جب کہ پوری وادی میں کرفیو کا سماں ہے۔ حریت رہنماؤں نے شہریوں کو سیاہ پرچم لہرانے اور سیاہ لباس پہننے کی ہدایت دی گئی ہے۔ قابض فوج نے ایک مرتبہ پھر بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری عوام پر سیدھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گولیاں لگنے سے مزید 2 کشمیری شہید ہوگئے جس کے بعد 38 روز کے دوران قابض فوج کی فائرنگ سے شہادتوں کی تعداد 83 ہوگئی۔

دوسری جانب مقبوضہ وادی میں تاریخی جامعہ مسجد کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں بھارتی فوج کے 5 اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ وادی میں فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا جب کہ بھارتی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

ادھربھارتی یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والی تقریر میں کہیں بھی مقبوضہ کشمیر میں حکومت مخالف احتجاجی لہر کا براہِ راست ذکر نہیں کیا تاہم وہ پاکستان پر الزام لگانا نہ بھولے اور پاکستان کا نام لئے بغیر ان کا کہنا تھا کہ وہاں دہشت گردوں کے گنُ گائے جاتے ہیں اور وہاں کی حکومت دہشت گردی کے نظریے سے متاثر ہے۔