وزیراعظم کو آستین کے سانپ ڈس رہے ہیں،خورشید شاہ

کوئٹہ: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو آستین کے سانپ ڈس رہے ہیں لیکن انہیں احساس نہیں ہو رہا۔

کوئٹہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 20 نکات طے پائے تھے جس کے تحت نیکٹا کو بھی فعال ہونا تھا جو آج تک فعال نہیں ہو سکا۔ وزارت داخلہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، کوئٹہ میں چند روز میں ایک کے بعد دوسرا دھماکا انٹیلی جنس اداروں کی مکمل ناکامی ہے۔ وزارت داخلہ اور تمام ایجنسیوں کی توجہ بلوچستان اور کوئٹہ پر مرکوز ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہورہا جس کا نتیجہ دھماکوں کی صورت میں مل رہا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کمزور ہوجائے تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ریاست کمزور نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ ریاست کمزور ہوتی ہے تو ادارے کمزور ہوتے ہیں۔ دھماکوں میں جانے والی جانیں واپس نہیں آسکتیں، سیاست ہروقت ہوسکتی ہے، کوئٹہ میں دھماکا ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کی ناکامی ہے، وزارت داخلہ صرف دعوے کررہی ہے، نیشنل ایکشن پلان مکمل طور پر ناکام ہوگیا، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد پر ناکامی کی ذمہ دار وزارت داخلہ ہے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کی نا اہلی اور غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر داخلہ اب تک کوئٹہ نہیں آئے، انھیں ڈر ہے کہ وہ آئے تو لوگ ان کے خلاف نعرے لگائیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف کو پہلے بھی کئی مرتبہ بتا چکا ہوں کہ ان کی آستینوں میں سانپ ہیں جو انھیں ڈس رہے ہیں لیکن انھیں احساس نہیں ہو رہا۔