فرانس میں 20 مساجد بند، 80 مبلغین کو ملک سے نکال دیا گیا

پیرس: فرانس میں انتظامیہ نے گزشتہ 8 ماہ کے دوران ملک بھر میں قائم 20 مساجد کو انتہاپسندی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے کر انہیں بند کردیا ہے جب کہ نفرت پھیلانے کے الزام میں 80 مبلغین کو ملک سے بے دخل بھی کردیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق فرانسیسی انتظامیہ گزشتہ برس دسمبر سے اب تک انتہا پسندی کے فروغ کے شبے میں 20 مساجد اور عبادتی ہالز کو بند کرچکی ہے جب کہ 100 دیگر مساجد کو بند کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

فرانسیسی وزیر داخلہ برنارڈ کیزنیو نے مساجد بند کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں مسلمانوں کے لیے تقریباً 2 ہزار 500 مساجد و عبادتی ہالز ہیں، جن میں سے 120 میں مذہبی منافرت پر مبنی تعلیمات دیئے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا جس کی وجہ سے 20مساجد کو بند کردیا گیا ہے جب کہ مزید کو جلد بند کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس میں ایسی کسی چیز یا ادارے کی کوئی جگہ نہیں جہاں نماز کی جگہوں یا مساجد میں اشتعال انگیزی پھیلائی جائے اور جمہوری اصولوں کو قبول نہ کیا جائے، ان وجوہ کی بناء پر ہی گزشتہ چند ماہ کے دوران ان مساجد کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ 80 مبلغین کو بھی ملک سے نکال دیا گیا ہے۔