مفتی قوی نے پولیس کے سوالنامے کا جواب جمع کرادیا

ملتان: ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں نامزد مفتی عبدالقوی نے پولیس کے سوالنامے کا جواب جمع کرادیا۔

قندیل بلوچ قتل کیس میں پولیس کی جانب سے مفتی عبدالقوی کو بھیجے گئے سوالنامے پر دو روز بعد مفتی قوی نے جواب جمع کرادیا جس میں تمام سوالات کے مفصل جواب دیئے گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مفتی عبدالقوی نے اپنے جوابات میں کہا ہے کہ قندیل بلوچ سے ان کی پہلی ملاقات نجی نیوز چینل کے ایک پروگرام میں ہوئی تاہم ان سے پہلی و آخری بالمشافہ ملاقات 13 رمضان کو کراچی میں ہوئی۔ جس کے لیے رابطہ قندیل بلوچ نے خود کیا اور وہ خود ہوٹل آئیں اور لابی کی بجائے کمرے میں ملنے کا کہا جہاں پہلے سے ہی پانچ افراد موجود تھے۔

مفتی قوی نے پولیس کو بتایا ہے کہ سیلفی والے واقعے کے بعد قندیل بلوچ نے ان کو پانچ پیغامات بھیجے جن کا ریکارڈ انھوں نے تحریری بیان کے ساتھ پیش کیا ہے۔ سیلفیوں والے واقعے کے بعد وہ اور قندیل بلوچ کئی ٹی وی شوز میں شریک گفتگو ہوئے لیکن ایک اسٹوڈیو میں اکٹھے نہیں ہوئے اور نا ہی اس واقعے کے بعد قندیل کے کسی گھر والے نے ان سے براہ راست یا بالواسطہ رابطہ کیا۔