قومی ایئر لائن یونینز اور ایسوسی ایشنز کے ہاتھوں یرغمال

کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کے چیئرمین اعظم سہگل کا کہنا ہے کہ پی آئی اے میں انتظامیہ کی عملداری اور اختیار نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ادارہ یونینز اور ایسوسی ایشنز کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے چیئرمین پی آئی اے اعظم سہگل کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لائن میں انتظامیہ کی عملداری اور اختیار نہ ہونے کے برابر ہے جس کی سب سے بڑی وجہ عملے اور طیاروں کی تعداد کا تناسب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے میں تقریباً 14 ہزار مستقل ملازمین اور 4 ہزار کے قریب روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد ہیں، یہ ملازمین اس وقت سے کام کر رہے ہیں جب پی آئی اے کے پاس 14 یا 15 طیارے تھے، اس وقت پی آئی اے کے بیڑے میں موجود طیاروں کے حساب میں ادارے کو مزید 4 ہزار افراد کی ضرورت ہے، اس سے پی آئی اے انتظامیہ کی عملداری کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اعظم سہگل کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی انتظامیہ یونینز کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ کمپنی میں 6 یونینز اور ایسوسی ایشنز ہیں، اس کے علاوہ ایک طاقتور سی بی اے (کلیکٹو بارگیننگ ایجنسی) ہے، پی آئی اے میں احتساب نہ ہونے کی وجہ سے یونینز اور ایسوسی ایشنز کا اثر و رسوخ حد سے زیادہ ہے، اس کے علاوہ اگر کمپنی کارکردگی کی بنیاد پر کسی کو نوکری سے نکالنا چاہے تو بھی نہیں کر سکتی۔ بعض اوقات ادارہ احتساب کے لئے تحقیقات کرکے نتیجے پر پہنچ بھی جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے یونیز اور ایسوسی ایشنز کے اثر و رسوخ کے باعث کوئی کارروائی نہیں کرپاتا۔

چیرمین پی آئی اے نے کہا کہ اس صورت حال پر قابو پانے کے لئے ہم اپنے طیاروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کریں گے تاکہ ادارے میں سازشیں کرنے والے اور فارغ رہنے والے افراد کو اتنا کام دیا جائے کہ وہ فارغ نہ بیٹھ سکیں۔ قومی ایئر لائن کی نجکاری کے حوالے سے چیرمین پی آئی اے کا کہنا تھا کہ ہڑتال اور سیاسی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے حکومت نے پی آئی اے کے 26 فیصد شیئرز کی نجکاری کا فیصلہ واپس لیا، اب کمپنی کا انتظام حکومت کے پاس ہے اور ادارے کے 51 فیصد حصص کی مالک حکومت ہے۔