دنیائے انسانیت کا روشن چراغ بجھ گیا

کراچی: انسانی خدمت کی عظیم ہستی اور ممتاز سماجی رہنما عبدالستار ایدھی انتقال کرگئے۔ ممتاز سماجی رہنما عبدالستار ایدھی گزشتہ کئی روز سے سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ میں زیرعلاج تھے جہاں دوران علاج وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ عبدالستار ایدھی کے گردے ناکارہ ہوچکے تھے جنہیں ڈائلسز کے دوران سانس کی تکلیف کے باعث وینٹی لیٹر پرمنتقل کیا گیا جہاں 6 گھنٹے کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔

عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے ان کی وفات کا بتاتے ہوئے کہا کہ آج بعد نمازظہرعبدالستار ایدھی کی نماز جنازہ میمن مسجد میں ادا کی جائے گی اور ان کی وصیت کے مطابق ایدھی ولیج میں تدفین ہوگی۔ والد کے انتقال سے متعلق بتاتے ہوئے فیصل ایدھی زار و قطار روتے رہے جن کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی نے وصیت کی تھی کہ انہیں اسی کپڑوں میں دفنایا جائے جس میں ان کا انتقال ہو اس لئے عبدالستار ایدھی کی وصیت پرعمل کیا جائے گا۔ پولیس نے عبدالستار ایدھی کے اہلخانہ سے درخواست کی کہ نماز جنازہ میں کئی اہم شخصیات کی آمد متوقع ہے اس لئے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرنمازجنازہ کا مقام تبدیل کیا جائے جس کے بعد عبدالستارایدھی کے اہلخانہ کی اجازت کے بعد نماز جنازہ کا مقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی رکھا گیا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ عبدالستارایدھی کی نمازجنازہ کے موقع پر سیکیورٹی سخت رکھی جائے گی جب کہ نماز جنازہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے تاہم اسٹیڈیم میں 25 سے 30 ہزار افراد کی گنجائش ہے اس لئے اسٹیڈیم میں داخل نہ ہونے والے افراد باہر نماز جنازہ ادا کرسکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سیکیورٹی چیک کے لئے صبح 11 بجے تک نیشنل اسٹیڈیم پہنچ جائیں، تلاشی کے بعد شہریوں کو نیشنل اسٹیڈیم میں داخلےکی اجازت ہوگی اور ساڑھے 11 بجے اسٹیڈیم کے دروازے بند کردیئے جائیں گے۔