سعودی عرب میں 2 بم دھماکے، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ

جدہ : سعودی عرب کے شہر قطیف میں ایک مسجد کے قریب بم دھماکا ہوا، عرب میڈیا کے مطابق، خود کش بمبار نے مسجد کے قریب آ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا ابتدائی طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکے کے نتیجے میں کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

قطیف سعودی عرب کا مشرقی شہر ہے جس کی مسجد عمران کے قریب اس وقت دھماکہ ہوا جب نمازی مغرب کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔ سعودی عرب میں حالیہ دنوں میں اس سے پہلے بھی دو دھماکے ہو چکے ہیں۔ قطیف میں دھماکے کی جگہ سے دھوئیں کے بادل اڑتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ علاقے کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے ساتھ ساتھ زخمیوں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو خود کش حملہ آوروں نے مسجد فراج العمران کو نشانہ بنانا چاہا تاہم جب انہیں اندر جانے سے روکا گیا تو انہوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

سعودی عرب میں ایک اور دھماکہ سلطنت کے دارالحکومت جدہ میں آج دوپہر تقریباً سوا دو بجے امریکی سفارتخانے کے قریب ہوا ہے۔ یہ بھی خود کش دھماکہ تھا جس میں ابتدائی طور پر 2 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ دھماکہ ایک اسپتال کی پارکنگ میں ہوا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کی عمر تیس سال کے قریب تھی جو ایک گاڑی میں سوار تھا جب اسے روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی کے مطابق، محافظوں کو صبح سوا دو بجے کے قریب ڈاکٹر سلیمان فقیہ اسپتال کے باہر کھڑی ایک گاڑی میں بیٹھے شخص پر شک پیدا ہوا تھا۔ یہ اسپتال امریکی قونصل خانے کے سامنے واقع ہے۔ جب محافظ گاڑی کے قریب پہنچے تو اس میں بیٹھے شخص نے اسپتال کی پارکنگ کے اندر اپنی خود کش بیلٹ سے خود کو اڑا دیا۔

دوسری جانب مدینہ منورہ میں ایک عمارت میں شارٹ سرکٹ کے باعث آتش زدگی کے سبب علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ آتش زدگی کا واقعہ مسجد نبوی سے تقریباً نصف کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ بعض متضاد ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ بھی شارٹ سرکٹ سے ہونے والی آتش زدگی کا نہیں بلکہ خود کش حملہ ہی تھا کیونکہ مدینہ منورہ میں دھماکے کی آواز بہت دور تک سنی گئی۔