مالی سال 2016-17 کا مجموعی طور پر 43.96 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش

اسلام آباد:مالی سال 2016-17 کا مجموعی طور پر 43.96 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جس کے تحت ڈیفنس کے لئے 860 ارب روپے مختص کر دیئے گئے جب کہ سیمنٹ ، سریا ، مشروبات ، خشک دودھ ، منرل واٹر ، موبائل فونز ، سگریٹ ، چھالیہ، پان ، کمرشل بجلی ، ائیرکنڈیشن ، میک اپ کا سامان مہنگا کر دیا گیا، جب کہ صنعتی شعبے اور کسانوں کے لئے بجلی ، کھاد ، کیڑے مار ادویات ، ایل ای ڈی لائٹ ، لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، مچھلی اور جھینگے ، ڈیری ، پولٹری ،پلاسٹک کی اشیاء ، کھلونے اور لائیو سٹاک، استعمال شدہ کپڑا، ٹیکسٹائل ، چمڑا، کھیلوں کا سامان ، جراحی آلات سستے کر دیئے گئے جب کہ نان فائلر کے لئے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرتے ہوئے پرائز بانڈ کی انعامی رقم پر 20 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ، غیر ملکی اشتہارات اور ڈرامے دکھانے والے چینلز پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد ہو گا ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کر دیا گیا ، وفاقی ملازمین کو یکم جولائی سے جاری بنیادی تنخواہ پر دس فیصد ایڈہاک الاؤنس دیا جائے گا، 2013-14 کے ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں شامل کر لیا گیا ، ایم فل الاؤنس 2500 ماہانہ ، ایڈیشنل چارج اور ڈیپوٹیشن الاؤنس 6000 سے بڑھا کر 12000 کر دیا گیا ، گریڈ ایک سے پندرہ تک کے وفاقی ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ ، مزدور کی کم سے کم اجرت 13000 سے بڑھا کر 14 ہز ار کر دی گئی جب کہ سرحدی علاقوں میں تعینات سول آرم فورسز کو ماہانہ تین سو روپے کا سپیشل الاؤنس دیا جائے گا ، 30 لاکھ سے زائد کی جائیداد کی خریدو فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس ، غیر منقولہ جائیداد پانچ سال میں بیچنے پر دس فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ، ٹائر بنانے والے بیڈ وائر پر 30 فیصد عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم ، چھوٹے مکانات کے لئے قرضے کی حد 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کر دی گئی، صنعتی شعبے کی 2 ہزار اشیاء مشینری ،خام مال ، پر کسٹم ڈیوٹی تین فیصد کر دی گئی ، جب کہ متاثرین فاٹا کے لئے 100 ارب مختص کر دیئے گئے ۔ جمعہ کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال 2016-17کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اور قائد ایوان اپنی کامیاب اوپن ہارٹ سرجری کے بعد تیزی سے روبہ صحت ہو رہے ہیں۔ ایوان پوری قوم اور دنیا بھر سے کروڑوں لوگوں کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں کہ وہ جلد مکمل صحت یاب ہوں اور وطن عزیز واپس آ کر اپنی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم جون 2013 میں درپیش معاشی چیلنجز کو یاد کرتے ہیں اور گزشتہ تین سال میں ہم نے وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں جو سفر طے کیا اس کو دیکھتے ہیں تو اللہ کی رحمتوں کا بے حد شکرادا کرتے ہیں جو اس نے ہم پر کیں، الحمداللہ معیشت کو درپیش خطرات ٹل چکے ہیں اور ملک استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، پاکستان کے جون 2014 تک دیوالیہ ہونے کی پیش گوئیاں کرنے والے ناکام ہو گئے ہیں اور ہم نے ملک کو نہ صرف دیوالیہ ہونے سے بلکہ معیشت کو اتنا مستحکم کیا کہ آج بین الاقوامی ادارے پاکستان کا نام عزت اور وقار سے لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے معاشی چیلنجز کے مقابلے کیلئے 2013 کے جنرل الیکشن سے پہلے ایک واضح حکمت عملی تیار کی جس کا اعلان ہمارے منشور میں کیا گیا اور جس کی بنیاد پر ہم نے انتخابات 2013 میں کامیابی حاصل کی، آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس ملک کا چوتھا بجٹ پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے، ہر بجٹ میں ہماری کارکردگی پچھلے سال سے بہتر رہی ہے اور تمام اقتصادی اشاریے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ 2012-13 اور 2015-16 کی معاشی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ 9-10 ماہ کی معاشی کارکردگی کی بنیاد پر مکمل مالی سال2015-16 کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے جون 2013 میں پائی جانے والی صورتحال سے موجودہ معاشی حالت کا موازنہ پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے معاشی ترقی کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ دو سال ترقی کی شرح کئی سالوں کے بعد چار فیصد سے اوپر رہنے کے بعد رواں مالی سال 2015-16 میں معاشی ترقی کا تخمینہ 4.71 فیصد ہے جو کہ پچھلے آٹھ سالوں میں سب سے زیادہ ہے، یہ کارکردگی مزید بہتر ہوتی اگرکپاس کی فصل میں 28فیصد کا نقصان نہ ہوتا جس کی وجہ سے قومی پیداوار میں 0.5فیصد کمی واقع ہوئی۔ فی کس آمدن کے حوالے سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جو مالی سال 2012-13 میں 1,334 ڈالر تھی 2015-16 میں بڑھ کر 1,561 ڈالر ہو گئی، ڈالرز میں یہ 17فیصد اضافہ جبکہ روپوں میں 24فیصد اضافہ ہے۔ افراط زر یا مہنگائی کی شرح کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افراط زر یا مہنگائی کی شرح جو کہ 2008-13 کے دوران 12فیصد رہی، مالی سال 2012-13 میں 7.4فیصد پر تھی، مالی سال 2015-16 میں جولائی، مئی کے عرصے کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 2.82 فیصد ریکارڈ کی گئی جو کہ پچھے دس سالوں میں مہنگائی کی کم ترین سرح ہے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ معاشی ترقی کی نہ صرف بحالی ہوئی ہے بلکہ اس کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ بھی نہیں ہوا، ٹیکسوں کی وصولی میں مالی سال 2012-13 میں 3.38 فیصد اضافے کے ساتھ 1,946 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا، موجودہ مالی سال 2015-16 میں 3,104ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اب تک ہونے والی وصولیوں کی بنیاد پر یہ نظر آ رہا ہے کہ جون کے اختتام تک انشاء اللہ یہ ہدف پورا ہو جائے گا، اس طرح تین سالوں میں محصولات میں 60فیصد اضافہ ہو گا جو کہ تاریخی ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح جو کہ 2012-13 میں 8.5 فیصد تھی اب بڑھ کر 10.5فیصد ہو گئی ہے۔مالیاتی خسارے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مالیاتی خسارہ جو 2012-13 میں 8.2فیصد تھا اس کو تین سال میں کم کر کے 4.3فیصد کیا جا رہا ہے۔ نجی شعبے کو کریڈٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جو مالی سال 2012-13 میں منفی 19 ارب تھا مئی 2016 تک رواں مالی سال میں 312 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے